Afsana , Novel , Nazm , Marsiya

Afsana افسانہ

اردو میں افسانہ نگاری کی بنیاد پریم چند نے ڈالی۔ انہوں نے اس صدی کےشروع میں سب سے پہلے افسانے لکھنے شروع کئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس صنف نے   ایسی ترقی کی کہ یہ اردو کی مقبول ترین صنف ہو گئی۔ اردو میں افسانے کے فروغ سے پہلے داستانوں اور مضمون نگاری کا رواج تھا، لیک جیسے جیسے حالات بدلے اور فراغت کم ہونے لگی تو افسانہ نگاری کا رواج عام ہوا۔ افسانے سے مراد وہ نثری کہانی ہے جس میں کسی شخص کی زندگی کا اہم یا دلچسپ پہلو پیش کیا گیا ہو یا کوئی ایسا واقعہ بیان کیا گیا ہو جو زندگی کی بصیرت میں اضافہ کرنے والا ا ہو۔ افسانے میں ایک یا ایک سے زیادہ کردار ہو سکتے ہیں۔ زمانے میں بدلاؤ کے ساتھ ساتھ افسانہ نگاری کے میدان میں بھی تبدیلیاں ہو رہی ہیں۔ منشی پریم چند نے اپنے افسانوں کو حقیقت کا ترجمان بنایا۔ جھوٹے افسانوں کے بجائے ان کے یہاں غریب اور بے بس لوگوں کی زندگی کا عکس ملتا ہے۔ منشی پریم چند نے ابھی افسانے لکھنے کی شروعات ہی کی تھی کہ سجاد حیدر اور لطیف احمد جیسے ادیب اس میدان میں اتر آئے۔ ان کے علاوہ سلطان حیدر جوش نے بھی افسانے کے اولین نمونے پیش کئے ۔ منشی پریم چند کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ”سوز وطن“ کے عنوان سے ۱۹۰۸ء میں شائع ہوا۔ ان افسانوں میں سامراج دشمنی اور وطن سے محبت کے جذبات کی ترجمانی کی گئی ہے۔

آزادی کے بعد ہندوستان اور پاکستان میں کئی سالوں تک فسادات کے موضوع پر بہترین افسانے لکھے گئے۔ افسانوں میں حقیقت نگاری کی روایت کو آگے بڑھانے والوں میں حیات اللہ انصاری، سہیل عظیم آبادی، احمد ندیم قاسمی، شوکت صدیقی ، غیاث احمد گڈی وغیرہ کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

Novel ناول

اردو ناول نگاری کی شروعات فورٹ ولیم کالج سے ہوئی۔ باغ و بہار میں ناول کے تمام اجزاء نمایاں ہیں۔ باغ و بہار کو قصہ ہوتے ہوئے بھی ناول کہا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد رجب علی بیگ سرور کی تصنیف ‘فسانہ عجائب، قصے کی شکل میں ایک ناول ہے۔ یوں تو اور بھی بہت سارے قصے لکھے گئے مگر اردو میں ناول کی باقاعدہ ابتداء نذیر احمد کے تمثیلی ناول یا ناولوں سے ہوتی ہے۔ توبتہ النصوح’، ‘فسانہ مبتلا، ‘مراة العروس، ابن الوقت وغیرہ ابتدائی ناول کہے جاتے ہیں۔ نذیر احمد کے بعد سرشار عبدالحلیم شرر نے بھی ناول لکھے ہیں۔ شرر تاریخی ناول نگاری کے موجد کہے جاتے ہیں۔ فردوس بریں ان کا شاہکار ناول ہے۔ ناول نگاری کے میدان میں محمد ہادی رسوانے انقلاب برپا کیا۔ امراؤ جان ادا ان کا بہترین ناول ہے۔ دور جدید کے ناول نگاروں میں سجاد ظہیر، کرشن چندر، عادل رشید، شوکت تھا  نوی نسیم حجازی اور عطیہ پروین وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔

Nazm نظم

نظم کے لغوی معنی لڑی میں موتی پرونا ہیں۔ نظم کی ابتدا کب ہوئی یہ بات ابھی تک تحقیق اور اختلاف کے دائرے میں گردش کر رہی ہے۔ آب حیات میں نظم کا دور اول ولی دکنی سے منسوب کیا جاتا ہے۔ حالانکہ ولی سے پیشتر متعدد نظمیں ملتی ہیں،

مگر ان کو محض اس لئے اولیت حاصل ہے کہ ان کی زبان خاص دکنی ہے۔ نظم کو جن شعرا نے اپنی بھر پور کا وشوں سے چار چاند لگائے ان میں دوسرے . دور کے شاعروں میں امیر خسرو، میر، مبارک، حاتم وغیرہ نظم گو شعراء کے نام ملتے ہیں۔ تیسرے دور کے نظم گو شعراء میں جرات منطقی اور نظیر اکبر آبادی ہیں۔ نظیر نے اپنی نظموں میں تہوار، رسم و رواج اور ہندوستانی موسموں کو موضوع بنایا لیکن جہاں تک جدید نظم کا سوال ہے، اس کی باقاعدہ شروعات غدر کے بعد سے ہوتی ہے۔ اردو نظم حسن و عشق کی چھیڑ چھاڑ ، گل و بلبل کا ذکر اور جام و شراب تک ہی محدود تھی۔ لہذا اس ر کے ادیبوں نے سوچا کہ یہ باتیں ادب کے لئے نقصان دہ ثابت ہوں گی۔ حاکی نے شعر و ادب کی اصلاح کی طرف توجہ دلائی۔ محمد حسین آزاد اور الطاف حسین حالی نے اس وقت قوم اور وطن کی ترقی کے لئے نئی راہیں استوار کیں۔ اس تحریک سے متاثر ہو کر علامہ اقبال، مولانا اسماعیل میرٹھی سرور جہاں آبادی اور صفی لکھنوی جیسے مشہور شعراء نے نظمیں لکھیں۔ اکبر نے طنز و مزاح کو اپنی نظموں کا موضوع بنایا۔ اقبال اور چکبست نے قومی اور وطنی نظمیں لکھیں۔ اسماعیل میرٹھی نے بچوں کو نشانہ بنا کر بے شمار نظمیں لکھیں۔

ان کے ساتھ حفیظ جالندھری، حامد اللہ افسر میر تھی، احسان دانش، نریش کمار شاده علی سردار جعفری وغیرہ کے نام ان شعراء میں شامل ہیں جن کی نظمیں اردو کا بہترین سرمایہ ہیں۔

Marsiya مرثیہ

لفظ مرثیہ رٹا لفظ سے بنا ہے۔ جس کے معنی رونے اور ماتم کرنے کے ہیں شاعری کی زبان میں مرثیہ اس نظم کو کہتے ہیں جو کسی کے مرنے پر لکھی جائے جس میں مرنے والے کی خوبیاں بیان کی جائیں۔ اور اپنے غم واندوہ کا اظہار کیا جائے۔ مرثیہکے اجزائے ترکیبی درج ذیل ہیں۔1– چہرہ: اسے مرثیہ کی تمہید بھی کہتے ہیں۔ تمہید کا موضوع مرثیہ کے موضوع سے الگ ہوتا ہے۔ مثلا:- گرمی کی شدت، صبح کا سماں، حمد، دعا وغیرہ بیان کئے جاتے ہیں۔– سراپا : اس میں مرثیہ کے ہیرو اور لباس وغیرہ نیز دوسری چیزوں اور خوبیوںکا ذکر کیا جاتا ہے۔ گویا اس میں ہیرو کا حلیہ مکمل طور پر بیان کیا جاتا ہے۔-۳- رخصت: اس میں ہیرو کے اہل خانہ اور عزیزوں سے میدان جنگ میں جانے کے لئے رخصت چاہنے کا ذکر ہوتا ہے اس کو شاعر اپنی صلاحیت کے مطابق نظم کرتا ہے۔ ۴ آمد: ہیرو کا گھوڑے پر سوار ہو کر شان وشوکت کے ساتھ رزم گاہ میں آنا۔آمد کے سلسلے میں ہیرو کے گھوڑے کی تعریف بھی لکھی جاتی ہے۔۵- رجز: اس حصے میں ہیرو اپنے بزرگوں کے کارناموں، خاندانی تعلقات اور اپنی جنگی مہارت وغیرہ کو بیان کرتا ہے۔

جنگ: اس میں میدان جنگ کے اندر لڑائی کا پورا سماں کھینچا جاتا ہے تلوار اور گھوڑے وغیرہ کی تعریف کے ساتھ ہیرو کی شجاعت کا مرثیہ نگار ذکر کرتا ہے۔ استعمال میں آنے والے دوسرے ہتھیاروں کا ذکر بھی اس میں کیا جاتا ہے۔ ے۔ شہادت : ہیرو کا دشمن کے ہاتھ سے زخمی ہونا اور شہید ہونا یعنی حضرت امام حسین یا اُن کے رفقاء کی شہادت کا ذکر پر اثر انداز میں کیا جاتا ہے۔

بین: ہیرو کی لاش پر اُس کے عزیزوں خاص کر عزیز عورتوں کا رونا ۔ یا گریہ وزاری بہت پراثر انداز میں کی جاتی ہے ذکر شہادت اور بین کی کامیابی پر ہی مرثیہ کی کامیابی کا انحصار ہوتا ہے۔ یہ دونوں اجزاء بہت اہم ہیں۔ میر انیس کو ان کو بیان کرنے میں عبور حاصل تھا۔